فهرس الكتاب

الصفحة 3808 من 5274

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانا ؟

3808 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ عَنْ جَابِرِ بَنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْحُمُرِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ قَالَ عَمْرٌو فَأَخْبَرْتُ هَذَا الْخَبَرَ أَبَا الشَّعْثَاءِ فَقَالَ قَدْ كَانَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ فِينَا يَقُولُ هَذَا وَأَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ يُرِيدُ ابْنَ عَبَّاسٍ

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے روز ہمیں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ ہم گھوڑوں کا گوشت کھائیں ۔ عمرو نے کہا: میں نے یہ روایت ابولشعثاء کو بتائی تو انہوں نے کہا کہ حکم ( حکم بن عمرو غفاری ) غفاری ( بصرہ میں ) ہمارے پاس تھے وہ بھی یہی کہتے تھے ۔ مگر اس " بحر " نے اس کا انکار کیا ہے ۔ سیدنا ابن عباس ؓ مراد ہیں ۔

فائدہ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم وفضل کی بنا پر انہیں (بحر الامۃ یا حبر الامۃ ) کہا جاتا ہے۔اور گدھوں کے بارے میں ان کا یہ قول شاید وضاحت کے ساتھ حدیث نہ پہنچنے کے سبب تھا۔صحیحین میں شعبی کے حوالے سے ان کاقول مروی ہے۔کہ مجھے معلوم نہیں کہ (خیبر کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ نے اس وجہ سے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔کہ لوگ سواریوں سے محروم نہ ہوجایئں۔یا ان کو حرام قراردیاتھا۔لیکن بالاخر جب انھیں بالوضاحت حرمت کی احادیث پہنچیں۔حضرت ابی طالب سے بھی ان کی بحث ہوئی تو یقین کے ساتھ وہ ان کی حرمت کے قائل ہوگئے تھے (فوائد ابن القہیم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت