فهرس الكتاب

الصفحة 2267 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: عمل قیانہ کا بیان

2267 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُسَدَّدٌ وَابْنُ السَّرْحِ يَوْمًا مَسْرُورًا، -وَقَالَ عُثْمَانُ تُعْرَفُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ-، فَقَالَ: أَيْ عَائِشَةُ! أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ رَأَى زَيْدًا وَأُسَامَةَ، قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا بِقَطِيفَةٍ وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ؟ . قَالَ أَبو دَاود: كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ، وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہرسول اللہ ﷺ ایک دن بڑے خوش خوش میرے ہاں تشریف لائے ۔ عثمان بن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ کے چہرہ کے خطوط چمک رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " عائشہ ! کیا کچھ معلوم ہوا کہ مجزز مدلجی نے زید اور اسامہ کو دیکھا جبکہ وہ دونوں ایک چادر سے اپنے سر ڈھانپے ( لیٹے ) ہوئے تھے اور ان کے پاؤں ننگے تھے تو مجزز نے کہا: بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے سے ہیں ۔ ( باپ بیٹے کے ہیں ) امام ابوداؤد ؓ نے کہا: سیدنا اسامہ سیاہ رنگ کے تھے اور سیدنا زید سفید رنگ کے ۔

انسان کے اعضاء اور شکل و مشابہت دیکھ کر اس کے نسب وعادات کا اندازہ لگانا قیافہ کہلاتا ہے۔ (ابجد العلوم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت