فهرس الكتاب

الصفحة 5269 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: مینڈک کو مارنے کا بیان

5269 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا

سیدنا عبدالرحمٰن بن عثمان ؓ سے روایت ہے کہ یک معالج نے نبی کریم ﷺ سے مینڈک کے متعلق پوچھا کہ وہ اسے کسی دوا میں ڈالتا ہے تو آپ ﷺ نے اسے اس کے قتل کرنے سے منع فرمایا ۔

اس حدیث سے معلوم ہواکہ اس کا کھاناحلال نہیں ہے اور یہ پانی کے ان جانوروں میں شمار نہیں جن کا کھانا حلال ہے ۔ (عون المعبود)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت