فهرس الكتاب

الصفحة 2877 من 5274

کتاب: وصیت کے احکام و مسائل

باب: انسان کوئی چیز ہبہ کرے پھر اس چیز کی اسی کے لیے وصیت کر دے یا دینے والا ہی اس کا وارث بن جائے؟

2877 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بَنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ قَالَ قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ قَالَتْ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَتْ وَإِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ

سیدنا بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی والدہ کو صدقہ دی تھی ' والدہ فوت ہو گئی ہے اور وہ لونڈی ورثے میں چھوڑ گئی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " تیرا ثواب ثابت ہوا اور وہ لونڈی وراثت میں تجھے واپس آ گئی ۔ " اس نے کہا: والدہ فوت ہوئی ہے تو اس پر ایک مہینے کے روزے ہیں ' اگر میں اس کی طرف سے روزے رکھوں تو کیا اس کی طرف سے کفایت یا قضاء ہو جائے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " ہاں " عورت نے کہا: والدہ نے حج نہیں کیا تھا ' اگر میں اس کی طرف سے حج کروں تو کیا اس کی طرف سے کفایت یا قضاء ہو جائے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " ہاں ! " ۔

۔والدین کی مادی ومعنوی خدمت اور مدد کرنا اہم تین فضائل میں سے ہے۔ اور بڑے اجر کا کام ہے۔2۔صدقہ اور ہدیہ اگربطور ورثہ واپس مل جائے۔تو اس کا مالک بننا جائز ہے۔ اسی طرح لینا اس ذیل میں نہیں آتا۔جس میں صدقہ ااور ہبہ واپس لینا ممنوع قراردیا گیا ہے۔3۔ میت کے زمے اگر روزے باقی ہوں تو وارث کو اس کی قضا کرنی چاہیے۔4۔اس طرح میت کی طرف سے حج بھی ہوسکتاہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت