3754 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ قَالَ أَبُو دَاوُد أَكْثَرُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ جَرِيرٍ لَا يَذْكُرُ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهَارُونُ النَّحْوِيُّ ذَكَرَ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ أَيْضًا وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ
عکرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس ؓ کہا کرتے تھے: بلاشبہ نبی کریم ﷺ نے مقابلہ بازی میں آ کر کھلانے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ جریر کے اکثر شاگرد اس روایت میں ابن عباس ؓ کا نام ذکر نہیں کرتے ۔ البتہ ہارون نحوی نے ان کا نام لیا ہے ۔ حماد بن زید نے بھی ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کیا ۔ ( یعنی ان کی روایت مرسل ہوئی ) ۔
فائدہ۔مقابلہ بازی میں کھلانے والے کا مقصد محض فخروریا اورحصول شہرت ہو تو ایسے کھانے میں شریک نہیں ہوناچاہیے۔