فهرس الكتاب

الصفحة 3203 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: قبر پر جنازہ پڑھنا

3203 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ أَوْ رَجُلًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقِيلَ مَاتَ فَقَالَ أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهِ قَالَ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَدَلُّوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک کالے رنگ کی عورت یا مرد مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا ' تو نبی کریم ﷺ نے اسے غائب پایا اور اس کے متعلق دریافت فرمایا تو کہا گیا کہ وہ فوت ہو گیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " تو تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ " پھر فرمایا " مجھے اس کی قبر بتاؤ ۔ " صحابہ نے اس کی نشاندہی کی تو آپ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی ۔

1۔قبر پر جا کر نماز جنازہ پڑھنی جائز ہے۔2۔رسول اللہ ﷺ ضعیف مسلمانوں کا بھی خاص خیال رکھا کرتے تھے۔3۔مسجد کی صفائی ستھرائی بہت ہی بڑے اجر کا کام ہے۔اور یہ اسی عمل کی برکت تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی قبر پر جاکر نماز جنازہ پڑھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت