فهرس الكتاب

الصفحة 4970 من 5274

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان

باب: عورت کنیت اختیار کرے تو جائز ہے

4970 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُلُّ صَوَاحِبِي لَهُنَّ كُنًى! قَالَ: >فَاكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي: ابْن اخْتُهَا-. قَالَ: مُسَدَّدٌ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ.

قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا قَالَ قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ، عَنْ هِشَامٍ كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری سب سہیلیوں کی کنیتیں ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " تو تم اپنے بیٹے عبداللہ کے نام سے کنیت رکھ لو ۔ " مقصد تھا کہ اپنے بھانجے کی نسبت سے ۔ مسدد نے وضاحت کی کہ اس سے مراد " عبداللہ بن زبیر " ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے ام عبداللہ کنیت اختیار کر لی ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور ابواسامہ نے ہشام سے ، اس نے عباد بن حمزہ سے روایت کیا ہے ۔ اور ایسے ہی حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا جیسے ابواسامہ نے کہا ۔

عورتوں کے لیےبھی جائز ہےکہ کنیت اختیار کرلیں خواہ اولاد ہویانہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت