فهرس الكتاب

الصفحة 1187 من 5274

کتاب: نماز استسقا کے احکام و مسائل

باب: نماز کسوف میں قرآت کا بیان

1187 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ كُلُّهُمْ قَدْ حَدَّثَنِي، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ... وَسَاقَ الْحَدِيثَ, ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ آلِ عِمْرَانَ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گہنایا تو رسول اللہ ﷺ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے پس میں نے آپ ﷺ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو محسوس کیا کہ آپ ﷺ نے سورۃ البقرہ تلاوت فرمائی ہے ۔ اور حدیث بیان کی ۔ پھر آپ ﷺ نے دو سجدے کیے ، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی ۔ میں نے آپ ﷺ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو میں نے سمجھا کہ آپ ﷺ نے سورۃ آل عمران تلاوت کی ہے ۔

؎اس نماز میں قراءت حتی المقدور خوب لمبی ہونی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت