1316 حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُوقِظُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِاللَّيْلِ، فَمَا يَجِيءُ السَّحَرُ، حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حِزْبِهِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ بلاشبہ اللہ عزوجل رسول اللہ ﷺ کو رات میں جگا دیتا تھا ۔ چنانچہ سحر ( صبح ) نہ ہو پاتی تھی کہ آپ اپنے معمول کی عبادت سے فارغ ہو چکے ہوتے تھے ۔
فائدہ: معلوم ہوا کہ ہر ہر فرد کو نیکی کی توفیق اللہ عزوجل ہی کی طرف سے ملتی ہے۔ اور اس سے ہمیشہ یہی دعا کرنی چاہیے جیسا کہ معروف حدیث میں ہے: «رب اعنى على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» (سنن نسائی، السہو، حدیث:1304) ''ا ے اللہ!اپنا ذکر کرنے ، شکر کرنے اور عمدہ طور سے اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔''