فهرس الكتاب

الصفحة 5137 من 5274

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل

باب: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان

5137 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " کوئی بیٹا اپنے باپ کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتا ۔ سوائے اس کے کہ اسے ( باپ کو ) غلام پائے ، تو اسے خریدے اور آزاد کر دے ۔ "

آذا د کرنے کے یہ معنی نہیں کے بیٹا باپ کو خریدے۔تو اب عملًا آذاد کرنے کااعلان کرے۔بلکہ علمائے امت کا اجماع ہے۔ کہ باپ بیٹے کی یا بیٹا باپ کی ملکیت میں آتے ہی فورًا از خود آذاد ہوجائے گا۔ آذاد کرنے کابیان خریدنے کی نسبت سے آیا ہے۔اور اس عمل کو بیتے کیطرف سے باپ کے حقوق کی ادایئگی سے تعبیر کیاگیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت