3665 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَوَّاصُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّيْبَانِيِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ
سیدنا عوف بن مالک اشجعی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ' آپ ﷺ فرماتے تھے " وعظ وہی کہے گا جو امیر ہو یا اس کی طرف سے مقرر کیا گیا ہو یا کوئی اپنی بڑائی یا شیخی کا اظہار کرنے والا ہو گا ۔ "
فائدہ۔امیر پر واجب ہے۔ کہ اپنی رعیت میں امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کی خوب اشاعت کرے۔ اور ایسے باصلاحیت افراد مقرر کرے۔جو کماحقہ یہ فریضہ سر انجام دے سکیں۔ان کے علاوہ ایسے لوگ جن میں علم وفقہ کی صلاحیت نہ ہو ان کا از خود یہ منصب سنبھال لینا بالعموم فساد کا باعث ہوسکتا ہے۔اوردر حقیقت یہ مسئلہ اسلامیہ سے متعلق ہے۔