فهرس الكتاب

الصفحة 3236 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: عورتوں کا قبروں کی زیارت کے لیے جانا

3236 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ

سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو قبروں پر جاتی ہیں اور ( ان لوگوں پر بھی ) جو لوگ انہیں سجدہ گاہ بناتے ہیں یا وہاں چراغ جلاتے ہیں ۔

مشروع ومسنون آداب کے ساتھ عورتیں بھی قبروں کی زیارت کے لئے جایئں تو جائز ہے۔جیسے کہ مذکورہ بالا احادیث میں عمومی رخصت دی گئی ہے۔لیکن جو عورتیں شرعی آداب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں نوحے پڑھیں۔یا سجدے کریں یا چراغ جلایئں تو یہ لعنت کے کام ہیں۔جن سے بچنا اور بچانا واجب ہے۔اور جو عورتیں یہ کام کریں۔ان کا قبرستان میں جانا جائز نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت