فهرس الكتاب

الصفحة 2727 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: عورت اور غلام کو غنیمت میں سے انعام و اکرام دیا جائے

2727 حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَسْأَلُهُ، عَنْ كَذَا وَكَذَا -وَذَكَرَ أَشْيَاءَ-، وَعَنِ الْمَمْلُوكِ: أَلَهُ فِي الْفَيْءِ شَيْءٌ؟ وَعَنِ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَهَلْ لَهُنَّ نَصِيبٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْلَا أَنْ يَأْتِيَ أُحْمُوقَةً مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ, أَمَّا الْمَمْلُوكُ, فَكَانَ يُحْذَى، وَأَمَّا النِّسَاءُ, فَقَدْ كُنَّ يُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيَسْقِينَ الْمَاءَ.

یزید بن ہرمز نے بیان کیا کہ نجدہ ( حروری ، جو کہ خوارج کا سردار تھا ) نے سیدنا ابن عباس ؓ کو کئی سوالات لکھ کر بھیجے ۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ کیا غلام کا غنیمت میں کوئی حصہ ہوتا ہے ؟ اور عورتوں کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ جہاد میں جایا کرتی تھیں ؟ اور کیا غنیمت میں ان کا کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟ سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ کوئی حماقت کرے گا تو میں اسے جواب نہ دیتا ۔ ( آپ نے لکھا کہ ) غلام کو انعام دیا جاتا تھا ، اور عورتیں زخمیوں کا علاج معالجہ کیا کرتی تھیں اور پانی پلایا کرتی تھیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت