2354 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا أَنَا وَمَسْرُوقٌ، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ، وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ؟ قَالَتْ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ، وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ، قَالَتْ: كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
جناب ابوعطیہ ( مالک بن عامر ) سے مروی ہے ، کہتے ہیں کہ میں اور مسروق ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ہم نے کہا: اے ام المؤمنین ! رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے دو حضرات کا عمل کچھ اس طرح ہے کہ ان میں سے ایک افطار کرنے اور نماز ( مغرب ) پڑھنے میں جلدی کرتا ہے اور دوسرا افطار اور نماز میں ( قدرے ) تاخیر کرتا ہے ۔ انہوں نے پوچھا افطار اور نماز میں جلدی کون کرتا ہے ؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) ؓ ہیں ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔
(19 خیر القرون میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے عمل کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کی کسوٹی پر جانچا جاتا تھا، کیونکہ حجت مطلقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے۔(2) افطار اور نماز مغرب کی ادائیگی اول وقت میں کرنا مشروع و مسنون ہے۔ (3) قدرے تاخیر کرنے والے صحابی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ شاید احتیاط کے خیال سے تاخیر کرتے تھے، لیکن اب اوقات کے کیلنڈروں کے بعد احتیاط کے طور پر تاخیر کا کوئی جواز نہیں ہے۔