1434 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَقَ السَّيْلَحِينِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ مَتَى تُوتِرُ قَالَ أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَقَالَ لِعُمَرَ مَتَى تُوتِرُ قَالَ آخِرَ اللَّيْلِ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ وَقَالَ لِعُمَرَ أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ
سیدنا ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابوبکر ؓ سے پوچھا: " تم وتر کس وقت پڑھتے ہو ؟ " انہوں نے کہا: میں رات کے اول حصے میں پڑھتا ہوں ۔ سیدنا عمر ؓ سے پوچھا کہ وتر کس وقت پڑھتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ میں رات کے آخری حصے میں پڑھتا ہوں ۔ آپ نے سیدنا ابوبکر ؓ کے متعلق فرمایا " اس نے احتیاط کو اختیار کیا ہے ۔ " اور سیدنا عمر ؓ کے بارے میں فرمایا " اس نے عزم و قوت کو اختیار کیا ہے ۔ "
انسان کو ہمیشہ اعتماد والا عمل کرنا چاہیے۔اگر آخر رات میں اُٹھنا مشکل محسوس ہوتا ہو تو سونے سے پہلے وتر پڑھ لینے چاہیں۔اور صبح کو اُٹھ کرتہجد پڑھ لے۔وتر دہرانے کی ضرورت نہیں۔