1536 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْوَالِدِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " تین دعاؤں کے قبول ہونے میں شک نہیں ۔ باپ کی دعا ، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا ۔ "
یہ تینوں شخصیات بالعموم ایسی ہوتی ہیں۔کہ ان میں اخلاص صدق رقت قلب اور انکساری بہت زیادہ ہوتی ہے۔اور ان کی دعا میں خیر اور شر کے دونوں پہلوں ممکن ہیں۔لہذا بیٹے کو چاہیے کہ باپ کے ساتھ باادب معاون اور مطیع رہے۔اور اس کی دعائوں سے حصہ حاصل کرنے والا بنے۔مسافر کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ بھی واضح ہے۔کہ اس کی بد دعا از حد نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔اسی لئے کسی پر کبھی ظلم نہیں کرناچاہیے۔اور ان حضرات کو بھی یہی لائق ہے کہ اللہ کی رحمتوں کے سائل رہیں۔اور مشکلات پر صبر کرکے اللہ سے اجر لیں۔