فهرس الكتاب

الصفحة 197 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: اس سے کلی نہ کرنے کی رخصت

197 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ مُطِيعِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَلَمْ يُمَضْمِضْ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَصَلَّى. قَالَ: زَيْدٌ دَلَّنِي شُعْبَةُ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ.

سیدنا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک بار ) رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیا مگر ( اس کے بعد ) کلی کی نہ وضو کیا اور نماز پڑھ لی ۔ زید ( زید بن حباب ) کہتے ہیں کہ شعبہ نے مجھے اس شیخ ( مطیع بن راشد ) کی راہنمائی کی تھی ( کہ اس سے حدیث حاصل کروں ) ۔

دودھ پی کرکلی کرلینامستحب اورافضل ہے'نہ بھی کرےتوجائزہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت