فهرس الكتاب

الصفحة 1758 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: جو شخص ہدی( قربانی حرم کی طرف )بھیج دے اور خود نہ جائے( تو اس کا کیا حکم ہے ؟)

1758 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمَدَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے ھدی بھیجا کرتے تھے ۔ میں ان کے قلاووں کی رسیاں بٹا کرتی تھی اور پھر آپ کسی چیز سے اجتناب نہ کرتے جس سے کہ محرم اجتناب کرتا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت