فهرس الكتاب

الصفحة 4171 من 5274

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل

باب: بالوں کو مزید بال لگا کر لمبا کرنا

4171 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ:، حَدَّثَنَا شَرِيَكٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِالْقَرَامِلِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ شُعُورُ النِّسَاءِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ أَحْمَدُ يَقُولُ: الْقَرَامِلُ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.

جناب سعید بن جبیر ؓ نے کہا کہ دھاگوں سے بنی چوٹی ( موباف ) میں کوئی حرج نہیں ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا کہ گویا سعید ؓ کی رائے یہ تھی کہ بالخصوص عورتوں کے بال ( اور بال لگا کر ) جوڑنا ہی منع ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اور ایسے ہی امام احمد ؓ کہتے تھے کہ دھاگوں کی چوٹی کا کوئی حرج نہیں ہے ۔

یہ قول سندََا ضعیف ہے تاہم مو باف (دھاگوں ) کی بنی چو ٹی) کے استعمال میں کو ئی حرج معلوم نہیں ہو تا امام احمد ؒ کے قول سے بھی واضح ہے۔ واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت