4171 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ:، حَدَّثَنَا شَرِيَكٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِالْقَرَامِلِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ شُعُورُ النِّسَاءِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ أَحْمَدُ يَقُولُ: الْقَرَامِلُ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.
جناب سعید بن جبیر ؓ نے کہا کہ دھاگوں سے بنی چوٹی ( موباف ) میں کوئی حرج نہیں ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا کہ گویا سعید ؓ کی رائے یہ تھی کہ بالخصوص عورتوں کے بال ( اور بال لگا کر ) جوڑنا ہی منع ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اور ایسے ہی امام احمد ؓ کہتے تھے کہ دھاگوں کی چوٹی کا کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ قول سندََا ضعیف ہے تاہم مو باف (دھاگوں ) کی بنی چو ٹی) کے استعمال میں کو ئی حرج معلوم نہیں ہو تا امام احمد ؒ کے قول سے بھی واضح ہے۔ واللہ اعلم