فهرس الكتاب

الصفحة 4170 من 5274

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل

باب: بالوں کو مزید بال لگا کر لمبا کرنا

4170 حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ، وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ، وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ مِنْ غَيْرِ دَاءٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَتَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ: الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ، وَالْمُسْتَوْصِلَةُ: الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالنَّامِصَةُ: الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تُرِقَّهُ، وَالْمُتَنَمِّصَةُ: الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالْوَاشِمَةُ: الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلَانَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ، وَالْمُسْتَوْشِمَةُ: الْمَعْمُولُ بِهَا.

سیدنا ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ لعنت کی گئی ہے اس عورت پر جو بال جوڑے اور جڑوائے ' جو چہرے کے بال اکھیڑے اور اکھڑوائے اور جو جسم گودے یا گدوائے بغیر کسی بیماری کے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا کہ «واصلة» سے مراد وہ عورت ہے جو دوسرے عورتوں کے بال جوڑتی ہو اور «مستوصلة» وہ ہے جو یہ کام کروائے ۔ «نامصة» وہ ہے جو ابرووں کے بالوں کو نوچتی اور انہیں باریک بناتی ہو اور «متنمصة» وہ ہے جو یہ کام کروائے ۔ «واشمة» وہ ہے جو چہر ے کی جلد پر سرمے یا سیاہی سے تل وغیرہ بناتی ہو اور «مستوشمة» وہ ہے جو یہ کام کرواتی ہو ۔

اگر کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے کسی عورت کے بال جھڑ جائیں تو مناسب حد تک وِگ وغیرہ استعمال کر سکتی ہے۔ واللہ اوعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت