فهرس الكتاب

الصفحة 5207 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: ذمیوں( کافروں )کو سلام

5207 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَائِشَةَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي بَصْرَةَ يَعْنِي الْغِفَارِيَّ

سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓم نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اہل کتاب ( یہودی اور عیسائی ) ہمیں سلام کہتے ہیں تو ہم انہیں کس طرح جواب دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " تم انہیں «وعليكم» کہا کرو ۔ " ( «السلام» کا لفظ نہ بولا کرو ) ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا کہ سیدہ عائشہ ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔

دیگر بعض احادیث میں کفار کے سلام کے جواب صرف علیکم آیا ہے یعنی واو کےبغیر ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت