1158 حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَالِمٍ مَوْلَى نَوْفَلِ بْنِ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: كُنْتُ أَغْدُو مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى- يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ الْأَضْحَى-، فَنَسْلُكُ بَطْنَ بَطْحَانَ، حَتَّى نَأْتِيَ الْمُصَلَّى، فَنُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْجِعَ مِنْ بَطْنِ بَطْحَانَ إِلَى بُيُوتِنَا.
سیدنا بکر بن مبشر انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اصحاب رسول ﷺ کی معیت میں عید الفطر اور عید الاضحی کے روز عید گاہ کو جایا کرتا تھا ۔ ہم لوگ وادی بطحان کے بطن سے گزرتے تھے ، حتیٰ کہ عید گاہ میں پہنچ جاتے ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان کے بطن سے گزر کر واپس اپنے گھروں کو لوٹ آیا کرتے تھے ۔
معنوی اعتبار سے اس حدیث کا تعلق سابقہ با ب سے ہے۔ اور اشارہ ہے کہ عید گاہ سے راستہ بدل کر آنا مستحب ہے۔ضروری نہیں۔