1044 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي مَسْجِدِي هَذَا, إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ.
سیدنا بسر بن سعید ، سیدنا زید بن ثابت ؓ سے راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کے مقابلے میں انسان کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے سوائے فرض نماز کے ۔ "
1۔یہ ارشاد مردوں کو ہے عورتوں کو نہیں کیونکہ ان کے لئے فرض نماز بھی گھر میں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔اگرچہ جماعت میں آنے کی اجازت ہے۔2۔ بیت الحرام اور بیت المقدس بھی مسجد نبوی ﷺ پرقیاس ہیں۔3۔ان نوافل سے مرادایسے نوافل ہیں۔جومسجد سےمخصوص نہیں مثلا تحیۃ المسجد۔اورجمعہ سے پہلے کے نوافل وغیرہ۔