فهرس الكتاب

الصفحة 2941 من 5274

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

باب: بیعت کے احکام و مسائل

2941 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ قَالَتْ مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ قَالَ اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے رسول اللہ ﷺ کے عورتوں سے بیعت لینے کے بارے میں کہا: نبی کریم ﷺ نے کبھی کسی اجنبی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا ، البتہ عہد لیا کرتے تھے ، اور جب وہ عہد کرتی تو آپ ﷺ اسے فرماتے " جاؤ میں نے تم سے بیعت لے لی ۔ "

رسول اللہ ﷺ افراد امت کےلئے بمنزلہ باپ ہوتے ہوئے بعیت جیسےاہم شرعی معاملے میں اجنبی عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتے تھے۔دوسروں کو اور زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔ ایسے ہی عورتو پر بھی واجب ہے کہ وہ اجانب (غیرمحرم مردوں ) سے مصافحہ اور اختلاط سے بچیں۔2۔شر

عی آداب کو ملحوظ رکھ کر اجنبی عورتوں سے حسب ضرورت جائز معاملات کے بارے میں بات چیت کرلینی جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت