فهرس الكتاب

الصفحة 3837 من 5274

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: کھانے میں دو قسم کی چیزیں اکٹھی کھانا

3837 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ قَالَا دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ وَالتَّمْرَ

سلیم بن عامر نے بسر کے دو بیٹوں سے روایت کیا جو قبیلہ بنو سلیم سے تھے ( اور ان کا نام عبداللہ اور عطیہ نقل ہوئے ہیں ) انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ ﷺ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کی اور آپ ﷺ مکھن اور کھجور پسند فرمایا کرتے تھے ۔

فائدہ۔کھانے میں دو قسم کی چیزیں یا دوقسم کے کھانے جمع کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ جبکہ اسراف اور ترفہ یعنی محض خوش حالی اور خوش خورکی کا اظہار نہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت