1964 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى مِنْ أَجْلِ الْأَعْرَابِ لِأَنَّهُمْ كَثُرُوا عَامَئِذٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَرْبَعًا لِيُعَلِّمَهُمْ أَنَّ الصَّلَاةَ أَرْبَعٌ
امام زہری ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان ؓ نے منٰی میں بدوی لوگوں کی وجہ سے پوری نماز پڑھی تھی کیونکہ وہ اس سال بہت کثیر تعداد میں آئے تھے تو انہوں نے لوگوں کو چار رکعتیں پڑھائیں تاکہ ان بدویوں کو معلوم رہے کہ نماز چار رکعات ہے ۔
یہ چاروں آثار ضعیف ہے ۔ اس لیے حضرت عثمان کےمنی ٰ میں پوری نماز پڑھنے کی وجہ صرف مسافر کے لیے قصر کی بجائے پوری نماز پڑھنے کا جواز ہے ۔ اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ۔