فهرس الكتاب

الصفحة 3231 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: جوتے پہنے ہوئے قبروں پر چلنا

3231 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ

سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " بندے کو جب اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس کے پاس سے جانے لگتے ہیں ، تو بلاشبہ وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے ۔"

1۔میت کو قبر میں زندہ کیا جاتاہے۔ اور پھر اس کا محاسبہ ہوتا ہے۔اور یہ سب غیبی معاملہ ہے۔سماع موتیٰ میں ہمیں صرف اسی قدر خبر دی گئی ہے۔کہ وہ جانے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے ۔اور اسی پر ہمارا ایمان ہے اس سے مذید کی نفی ثابت ہے۔2۔معلوم ہوا کہ قبرستان میں جوتے پہننا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت