فهرس الكتاب

الصفحة 2857 من 5274

کتاب: شکار کے احکام و مسائل

باب: شکار کرنے کا بیان

2857 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ قَالَ ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ قَالَ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي قَالَ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ قَالَ ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ قَالَ وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي قَالَ وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَضِلَّ أَوْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِكَ قَالَ أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِنْ اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا قَالَ اغْسِلْهَا وَكُلْ فِيهَا

ایک بدوی جس کا نام ابو ثعلبہ ؓ تھا اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے ہاں سدھائے ہوئے ( شکاری ) کتے ہیں ۔ آپ مجھے ان کے ساتھ شکار کے بارے میں ارشاد فرمائیے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " اگر تیر پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں ' تو جو وہ تیرے لیے پکڑ رکھیں اس سے کھا لے ۔ " اس نے کہا: ذبح کر کے یا بغیر ذبح کیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " ہاں ( دونوں صورتوں میں اس کا کھانا جائز ہے ۔ " ) اس نے کہا: اگر کتا اس سے کھا لے تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " خواہ کھا بھی لے " اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے میری کمان کے ( شکار کے ) بارے میں ارشاد فرمائیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " تیری کمان جو تجھ پر لوٹائے اسے کھا لے ۔ " کہا: ذبح کر کے یا بغیر ذبح کیے ۔ اس نے کہا: اگر وہ شکار مجھ سے غائب ہو جائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " اگرچہ تجھ سے غائب ہی ہو جائے ' لیکن جب تک کہ خراب نہ ہو ' یا تو اس میں اپنے سوا کسی اور کے تیر کا نشان نہ پائے ۔ " اس کے کہا: مجھے مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں ارشاد فرمائیں کہ ہم ان کے استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " انہیں دھو لو اور پھر ان میں کھا لو ۔ "

1۔ا س روایت میں یہ بیان کہ خواہ کتا شکا ر سے کھا بھی لے منکر ہے۔اوراس کی توضیح پیچھے گزر چکی ہے۔2۔شکارشدہ جانور اگر زندہ ملے تو زبح کیا جائے۔اور اگرقتل ہوجائے توحلال ہے۔3۔ مجوسیوں کے برتن استعمال کرنے پڑیں۔وانہیں پہلے دھو لیاجائے۔یہی حکم ہندوں کا ہے۔یہودی اورعیسائی طہارت کا اہتمام کرتے ہوں۔ تو بہتر لیکن اگرشبہ ہو کہ خنزیر اور شراب وغیرہ سے احتیاط نہیں کرتے۔تو ان کے برتن بھی استعمال کرنے سے پہلے دھونے ضروری ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت