فهرس الكتاب

الصفحة 1861 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: فدیے کے احکام و مسائل

1861 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ زَادَ أَيُّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ

سیدنا کعب بن عجرہ ؓ سے اس قصے میں مروی ہے کہ ( آپ ﷺ نے فرمایا ) " ان ( تین کاموں ) میں سے جو بھی کرو گے تم سے کفایت کرے گا ۔ "

1۔قوم کے سربراہ اور کسی انجمن وجمیعت کے سربراہ کے لئے لازمی ہے کہ اپنے ساتھیوں کے شخصی احوال پر بھی نگاہ رکھے۔

نگہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز یہی ہے رخت سفر میر کارواں کےلیے

اس باب کی احادیث سورہ بقرہ کی آیت کریمہ (196) (فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) کی تفسیر ہیں۔ اور جو تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو فدیہ دے یعنی روزے رکھے ۔یا صدقہ کرے یا قربانی کرے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت