فهرس الكتاب

الصفحة 1860 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: فدیے کے احکام و مسائل

1860 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ أَصَابَنِي هَوَامُّ فِي رَأْسِي وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى تَخَوَّفْتُ عَلَى بَصَرِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِيَّ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ الْآيَةَ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ فَرَقًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ انْسُكْ شَاةً فَحَلَقْتُ رَأْسِي ثُمَّ نَسَكْتُ

سیدنا کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے سر میں جوئیں پڑ گئیں ۔ جبکہ میں حدیبیہ کے سال ( اس سفر میں ) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ۔ اور ( سر کی اذیت اتنی شدید تھی کہ ) مجھے اپنی نظر کا اندیشہ لگ گیا تھا ۔ پس اللہ عزوجل نے میرے بارے میں یہ آیت اتاری «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه» پس رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلوایا اور فرمایا " اپنا سر منڈا دو ۔ تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو ایک ٹوکرا کشمش کا کھلا دو یا ایک بکری قربانی کر دو ۔ " چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا اور پھر قربانی کر دی ۔

علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔کہ اس روایت میں زہیب یعنی کشمش کا زکر منکر ہے صحیح بات کھجور ہی ہے۔ فرق تین صاع کا برتن یا ٹوکری ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت