فهرس الكتاب

الصفحة 1003 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: نماز کے بعد( بآواز بلند )تکبیر کہنا

1003 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ -مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ-، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ >رَفْعَ الصَّوْتِ لِلذِّكْرِ -حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ- كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ وَأَسْمَعُهُ.

سیدنا ابن عباس ؓ نے خبر دی فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں لوگ جب فرض نماز سے فارغ ہوتے تو ذکر کرتے ہوئے اپنی آوازیں بلند کیا کرتے تھے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے ان کا نماز سے فارغ ہونا اسی سے معلوم ہوتا تھا اور میں ان کا ذکر سنتا تھا ۔

سلام کے بعد اللہ اکبر اور تین مرتہ استغراللہ اور اسی طرح بعض اور کلمات بالخصوص بلند آواز سے ثابت شدہ سنت ہے۔اسے بعض اوقات یا محض تعلیم کےلئے محمول کرنا صحیح نہیں ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ آواز کی بلندی اس قدر نہ ہو کہ دوسروں ے لئے تشویش اور الجھن کاباعث بنے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت