فهرس الكتاب

الصفحة 1010 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: سجدہ سہو کے احکام و مسائل

1010 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... بِمَعْنَى حَمَّادٍ كُلِّهِ، إِلَى آخِرِ قَوْلِهِ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ. قَالَ: قُلْتُ: فَالتَّشَهُّدُ؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: كَانَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ، وَلَا ذَكَرَ: فَأَوْمَئُوا، وَلَا ذَكَرَ الْغَضَبَ. وَحَدِيثُ حَمَّادٍ، عَنْ أَيُّوبَ أَتَمُّ.

سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ، آخر تک روایت حماد کی مانند کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ عمران بن حصین ؓ نے کہا کہ پھر آپ نے سلام پھیرا ، ( سلمہ نے ) کہا: میں نے پوچھا: اور تشہد ؟ انہوں نے کہا: تشہد کے بارے میں میں نے کچھ نہیں سنا ، مگر مجھے تشہد پڑھنا زیادہ پسند ہے ۔ ( سلمہ نے یہ ) ذکر نہیں کیا کہ آپ ﷺ اس شخص کو ذوالیدین کہا کرتے تھے ، اور نہ لوگوں کے اشارے اور رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا ذکر کیا ۔ اور حماد کی حدیث زیادہ کامل ہے جو ایوب سے مروی ہے ۔

سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھنا راحج نہیں ہے۔اس مسئلہ کی روایات ضعیف ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت