1042 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاتِهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ. قَالَ عُمَارَةُ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ، فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ رکھے ۔ یوں کہ صرف دائیں جانب سے پھرنے ہی کو اختیار کر لے ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بارہا دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی بائیں جانب سے بھی پھرا کرتے تھے ۔ عمارہ بیان کرتے ہیں کہ بعد ازاں میں مدینے آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے مکانات آپ ( کے مصلے ) سے بائیں جانب تھے ۔
حضرت عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا استشہاد یوں ہے کہ نبی کریمﷺ کا نماز کے بعد اذکار وغیرہ سے فارغ ہوکراپنے گھروں کوبایئں جانب ہی جانا ہوتا تھا۔ تو آپ عموما ہی اپنے بایئں جانب سے ہی اپنا منہ موڑتے رہے ہوں گے۔
بقول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سنت کے کسی ایک ہی انداز میں اس قدر اصرار کے دوسرے سے اعراض یا اس کی تکذیب سمجھی جائے۔دین میں بے حد برا عمل ہے۔گویا شیطان کا حصہ ملانا ہے۔