1056 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ يَعْنِي الطَّائِفِيَّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >الْجُمُعَةُ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ، عَنْ سُفْيَانَ مَقْصُورًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ يَرْفَعُوهُ وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ قَبِيصَةُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے ، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا " ہر اس شخص پر جمعہ ہے جو اذان سنے ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کیا ہے اور وہ سب اسے سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ پر موقوف کرتے ہیں ، صرف قبیصہ نے اسے مرفوع بیان کیا ہے ۔
یہ روایت تو سندا ضعیف ہے۔ مگر التزام جماعت کی دیگر احادیث سے معنا ً اس کی تایئد ہوتی ہے۔