فهرس الكتاب

الصفحة 1062 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: سردی یا بارش کی رات میں جماعت سے پیچھے رہنا؟

1062 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، فَقَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ ذَاتُ مَطَرٍ فِي سَفَرٍ, يَقُولُ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ.

جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓ نے مقام ضبحنان میں نماز کے لیے اذان کہی ، رات ٹھنڈی تھی اور ہوا چل رہی تھی ۔ آپ نے اپنی اذان کے آخر میں کہا «ألا صلوا في رحالكم ، ألا صلوا في الرحال» " خبردار ! اپنے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھو ۔ خبردار اپنے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھو ۔ " پھر بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سفر کے دوران میں جب رات سرد ہوتی یا بارش والی ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے کہ یوں کہے «ألا صلوا في رحالكم» " خبردار ! اپنے اپنے مقام پر نماز پڑھو ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت