فهرس الكتاب

الصفحة 1065 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: سردی یا بارش کی رات میں جماعت سے پیچھے رہنا؟

1065 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ >لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ.

سیدنا جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے تو بارش ہو گئی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " تم میں سے جو چاہے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لے ۔ "

ایسے مواقع پر جماعت کی ر خصت ہے۔یعنی آدمی اکیلے جماعت کے بغیر یا اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔مگرحاضر ہونے میں یقینا ً فضیلت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت