فهرس الكتاب

الصفحة 1071 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: عید اور جمعہ اکٹھے آ جائیں تو ؟

1071 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ عِيدٍ -فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ- أَوَّلَ النَّهَارِ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا، فَصَلَّيْنَا وُحْدَانًا، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَال:َ >أَصَابَ السُّنَّةَ.

جناب عطاء بن ابی رباح بیان کرتےہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیررضی االلہ نےہم کوجمعہ کے روز عیدکے دن'دن کے پہلے حصے میں نماز پڑھائی'پھرہم جمعہ کے لیے گئے مگروہ نہ آئے اور ہم نےاکیلے ہی نمازپڑھی-اور حضرت ابن عباس ؓ طائف میں تھے'وہ جب آئے توہم نےان سے اس کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے سنت پرعمل کیا ہے-

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت