1195 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ، وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا أَحْدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسُوفُ الشَّمْسِ الْيَوْمَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ,يُسَبِّحُ، وَيُحَمِّدُ، وَيُهَلِّلُ، وَيَدْعُو، حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ.
سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ دور رسالت کی بات ہے ۔ میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ سورج گہن لگ گیا تو میں نے تیر پھینک دیے اور کہا: میں بالضرور دیکھوں گا کہ آج سورج گہن والے دن رسول اللہ ﷺ کیا نیا کام کرتے ہیں ، چنانچہ میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا اور دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے ہاتھ اٹھائے تسبیح ، تحمید اور تہلیل میں مشغول دعا کر رہے تھے حتیٰ کہ سورج صاف ہو گیا ۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے دو رکعتوں میں دو سورتیں پڑھیں ۔