فهرس الكتاب

الصفحة 1202 من 5274

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل

باب: مسافر کب قصر کرے ؟

1202 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ.

سیدنا انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینے میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت ۔

یعنی سفر شروع ہوجانے کے بعد شہر سے نکل کر نماز قصر پڑھی جائے گی۔ذوالحلیفہ موجودہ نام (آبار علی) مدینے سے مکہ کی جانب پہلا پڑائو ہے اور فاصلہ چھ میل ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث نبی کریمﷺکے سفر حج کی بابت ہے جب کہ آپ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے اور کوئی بعید نہیں کہ پچھلی حدیث میں اسی واقعہ کو دوسرے اسلوب میں بیان کیا گیاہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت