فهرس الكتاب

الصفحة 1225 من 5274

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل

باب: سواری پر نفل اور وتر پڑھنا

1225 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَارُودِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي الْجَارُودُ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ,اسْتَقْبَلَ بِنَاقَتِهِ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ وَجَّهَهُ رِكَابُهُ.

سیدنا انس بن مالک ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور نفل پڑھنا چاہتے تو اپنی اونٹنی کو قبلہ رخ کرتے اور تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کر لیتے ، پھر نماز پڑھتے رہتے ، خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہوتا رہتا ۔

1۔دوران سفر میں نفل پڑھنا اپنے وقت کا بہترین مصرف اور اللہ ذوالجلال کے ہاں تقرب کا بہترین عمل ہے۔2۔سواری پر نفل ہی پڑھے جاسکتے ہیں۔فرائض نہیں۔مگر یہ اس وقت جب سواری مسافر کے اپنے تصرف میں ہو۔ہمارے دور کی سواریاں اور نظام سفر ریل گاڑی۔اور ہوائی جہاز وغیرہ۔ چونکہ مسافروں کے اپنے تصرف میں نہیں ہوتے۔اس لئے ان پر فرض بھی ادا کرسکتے ہیں۔بہر حال جہاں تک ممکن ہو۔فرائض قریب ترین پڑائو پر ادا کئے جایئں۔جیسے کشتی یا بحری جہاز میں اگر ساحل قریب نہ ہوتو بالاتفاق ان میں فرض نماز جائز ہے۔ ایسے ہی بس اور ہوائی جہاز وغیرہ کا معاملہ ہے۔گویا جس طرح بھی ممکن ہو۔ فرض نماز کی ادایئگی کرلی جائے۔ یا پھر جمع تقدیم یا جمع تاخیر پرعمل کرلیاجائے۔3۔اس حدیث سے بھی یہ معلوم ہوا کہ وتر فرض نہیں ہیں بلکہ تاکیدی نفل ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت