فهرس الكتاب

الصفحة 1284 من 5274

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل

باب: نماز مغرب سے پہلے نفل

1284 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ؟ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ.

قَالَ أَبو دَاود: سَمِعْت يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: هُوَ شُعَيْبٌ يَعْنِي وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ.

جناب طاؤس کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر ؓ سے مغرب سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اسے پڑھتا ہو ۔ اور عصر کے بعد دو رکعتیں کی رخصت دی ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو سنا ، کہتے تھے کہ راوی حدیث ابوشعیب دراصل شعیب ہے ، شعبہ کو اس کے نام میں وہم ہوا ہے ۔

فائدہ: اس حدیث میں بیان کردہ بشرط صحت حضرت ابن عمر کی نفی کو ان کی لاعلمی پر محمول کیاجائے گا 'کیونکہ صحیح احادیث سے صحابہ کرام کا مغرب کی اذان کے بعددو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت