130 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ عَنْ الرُّبَيِّعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءٍ كَانَ فِي يَدِهِ
سیدہ ربيع ( ربيع بنت معوذ ) ؓا سے مروى ہے كہ نبی کریم ﷺ نے سر کا مسح کیا ، اور اسی پانی سے کیا جو ان کے ہاتھوں میں ( پہلے سے ) بچا ہوا تھا ۔
فائدہ: بعض علماء کےنزدیک اس راوی کی حدیث میں اضطراب ہے، کیونکہ یہی روایت ابن ماجہ میں ہے تو اس میں نیا پانی لینے کی صراحت ہے اور بعض نے یہ توجیہ کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیا پانی لیا اور آدھا گرا دیا اور پھر ہاتھوں کی تری سے سر کا مسح کیا۔ (عون المعبود) بہرحال صحیح روایت سے سر کا مسح کے لیے نئے پانی کا لینا ثابت ہے اور وہی صحیح ہے۔