1321 حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ- {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّارَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ} [السجدة: 16] -، قَالَ: كَانُوا يَتَيَقَّظُونَ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ,يُصَلُّونَ. وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ قِيَامُ اللَّيْلِ .
سیدنا انس بن مالک ؓ اس آیت کریمہ «تتجا في جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا وم رزقناهم ينفقون» " ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو ہم نے ان کو دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ " کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ لوگ ( صحابہ ) مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے تھے ، یعنی نماز پڑھتے تھے ۔ اور جناب حسن بصری اس سے رات کا قیام ( تہجد ) مراد لیتے ہیں ۔