1370 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ كُلُّ عَمَلِهِ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ؟!
جناب علقمہ بیان کرتے ہیں ، میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے اعمال کا کیا انداز تھا ، کیا آپ ﷺ نے کوئی دن خاص کر رکھے تھے ؟ انہوں نے کہا: نہیں ، آپ ﷺ کے ہر عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور تم میں وہ استطاعت کہاں جو رسول اللہ ﷺ کو حاصل تھی ۔
فائدہ: ہمیشگی اسی عمل پر ہوسکتی ہے جو افراط و تفریط سے ہٹ کر اعتدال پر مبنی ہو، اور مداومت اختیار کرنا ہی سب سے بڑی ریاضت ہے۔