باب: قرآن کریم کم سے کم کتنے دنوں میں ختم کیا جائے
1389 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ فَنَاقَصَنِي وَنَاقَصْتُهُ فَقَالَ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا قَالَ عَطَاءٌ وَاخْتَلَفْنَا عَنْ أَبِي فَقَالَ بَعْضُنَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ بَعْضُنَا خَمْسًا
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا " ہر مہینے تین دن روزے رکھو اور ایک مہینے میں قرآن پڑھو ۔ " آپ ﷺ مجھ سے کمی کرواتے رہے اور میں کمی کرتا رہا ۔ بالآخر آپ ﷺ نے فرمایا " ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو ۔ " عطاء کہتے ہیں کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے میرے والد ( سائب ) سے روایت کرنے میں اختلاف کیا ۔ ہم میں سے کچھ سات دن روایت کرتے ہیں اور کچھ پانچ ( یعنی قرآت قرآن میں ) ۔