1397 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ
عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابومسعود ؓ سے پوچھا جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو شخص رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے ، یہ اس کو کافی ہو جاتی ہیں ۔ "
سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کا کافی ہونا یا کفایت کرنا کئی معانی کا محتمل ہے۔مثلا قیام الیل سے کافی ہیں۔یا شیطان اوردیگر آفات وغیرہ سے تحفظ کا باعث ہیں ۔یہ سبھی مراد ہیں۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کم سے کم یہ قراءت لمبی قراءت سے کفایت کرتی ہیں۔