فهرس الكتاب

الصفحة 1408 من 5274

کتاب: سجدہ تلاوت کے احکام و مسائل

باب: سورۃ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ» میں سجدہ تلاوت کا بیان

1408 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ قَالَ سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ ؓ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی ، انہوں نے نماز میں سورۃ «إذا السماء انشقت » تلاوت کی اور سجدہ بھی کیا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیسا سجدہ ہے ؟ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوالقاسم ﷺ کے پیچھے یہ سجدہ کیا ہے ۔ اور میں اسے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں ۔

سجدہ تلاوت نماز کے دوران میں بھی کیاجاتا ہے۔نماز خواہ فرض ہو یا نفل۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت