1413 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ قَالَ أَبُو دَاوُد يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ
سیدنا ابن عمر ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم پر قرآن پڑھا کرتے تھے ۔ جب سجدے کی آیت سے گزرتے تو «الله اكبر» کہتے اور سجدے میں چلے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے ۔ جناب عبد الرزاق نے بیان کیا کہ امام ثوری کو یہ حدیث بہت پسند تھی ۔ امام ابوداؤد ؓ نے بیان کیا کیونکہ اس میں تکبیر کا ذکر ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ سجدہ سے جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنی چاہیے۔لیکن شیخ البانی ؒ کے نزدیک اس میں تکبیر کا زکر منکر ہے۔تکبیرکے بغیر صحیح ہے۔