فهرس الكتاب

الصفحة 1429 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب: نماز وتر میں دعائے قنوت کا بیان

1429 حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَلَا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي فَإِذَا كَانَتْ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ فَكَانُوا يَقُولُونَ أَبَقَ أُبَيٌّ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي ذُكِرَ فِي الْقُنُوتِ لَيْسَ بِشَيْءٍ وَهَذَانِ الْحَدِيثَانِ يَدُلَّانِ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ أُبَيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ فِي الْوِتْرِ

سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب ؓ پر جمع فر دیا ۔ وہ انہیں بیس رات نماز پڑھاتے تھے اور قنوت نہ کرتے تھے ، مگر نصف اخیر میں قنوت کرتے تھے ۔ اور جب آخری عشرہ آ جاتا تو جماعت کرانا چھوڑ دیتے اور اپنے گھر میں پڑھتے تھے تو لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں: یہ دلیل ہے کہ قنوت کے بارے میں جو ذکر ہوا وہ صحیح نہیں ہے ۔ اور یہ دونوں حدیثیں سیدنا ابی سے مروی اس حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ وتر میں قنوت پڑھا کرتے تھے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت