فهرس الكتاب

الصفحة 1456 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب: قرآن پڑھنے کا ثواب

1456 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ الْعَقِيقِ فَيَأْخُذَ نَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ بِغَيْرِ إِثْمٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ قَالُوا كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَإِنْ ثَلَاثٌ فَثَلَاثٌ مِثْلُ أَعْدَادِهِنَّ مِنْ الْإِبِلِ

سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم صفہ میں تھے ۔ آپ نے فرمایا " تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ بطحان یا عقیق وادی میں جائے اور وہاں سے موٹی تازی خوبصورت اونچے کوہان والی دو اونٹنیاں لے آئے اور اس میں کسی گناہ یا قطع رحمی کا مرتکب بھی نہ ہو ۔ " کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم سب یہ چاہتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " تمہارا ہر روز مسجد جا کر کتاب اللہ سے دو آیتیں سیکھ لینا ، دو اونٹنیوں کے حصول سے بہتر ہے ، اگر تین آیتیں سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے ۔ اسی طرح مزید آیتوں کی تعداد کے مطابق اونٹنیوں سے بہتر ہے ۔ " جناب ابو عبید نے «كوما» کا ترجمہ بیان کیا کہ " اونچے کوہان والی اونٹنی ۔ "

1۔بُطحان اور عقیق مدینے کے قریب دو وادیوں کے نام ہیں۔اور یہاں اونٹوں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں۔2۔محبت دنیا۔جب کہ وہ دین کے تابع ہوتو جائز ہے۔3۔قطع ر حمی ناجائز اور حرام ہے۔4۔یہ حدیث تعلیم قرآن کی افضلیت پر دلالت کرتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت